گوہاٹی 3؍ جولائی ( ایس او نیوز؍ ایجنسی ) وزیر اعظم نریندر کے اس بیان کے باوجود کہ ’’ گؤبھکتی کے نام پر لوگوں کا قتل ناقابل قبول ہے‘‘ ملک میں بھیڑ کے تشدد کے واقعات میں کمی کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ گؤرکشا کے نام پر دہشت گردی کی تازہ واردات آسام میں پیش آئی ہے جہاں ہندو یواچھاتر پریشد کے غنڈوں نے اتوار کو جانوروں کو لے جارہی 3؍ گاڑیوں کو روک کر ان کے ڈرائیوروں اور دیگر افراد کی سر عام پٹائی کی۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹروں کے پاس جانوروں کی نقل و حرکت کیلئے تمام ضروری کاغذات اور اجازت نامے موجود تھے۔ پولیس نے نہ صرف یہ کہ حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ وہ مارپیٹ کے واقعے کی تصدیق کرنے کو بھی تیار نہیں ہے کیوں کہ اس سلسلے میں ’’ کسی نے کوئی شکایت ہی درج نہیں کرائی ۔ ‘‘ البتہ گاڑیوں کو ضبط کر کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ریاستی راجدھانی گوہاٹی کے مضافاتی علاقے میں پیش آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 3؍ گاڑیوں میں 51؍ جانور تھے۔ واضح رہے کہ آسام میں جہاں حال ہی میں بی جے پی حکومت بنی ہے، گؤرکشا کے نام پر غنڈہ گردی کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔ نام نہاد گؤرکشکوں نے پاتوکچی علاقے میں گاڑیوں کو روکا۔ گوہاٹی کے پولیس کمشنر ہیرین چندر ناتھ نے بتایا کہ ’’ پولیس نے ایک ٹرک سمیت 3؍ گاڑیاں ضبط کی ہیں۔ ‘‘ ٹرک میں آسام کے مشرقی علاقے سے جانور بھر کے لے جائے جارہے تھے جبکہ سہ پہیہ گاڑیوں میں مقامی سطح پر جانور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کئے جارہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سونا پور پولیس اسٹیشن کی حدود میں نیشنل ہائی وے پر انہیں کچھ لوگوں نے روک لیا تھا۔ جانوروں سمیت گاڑیاں ہم نے ٹرانسپورٹ محکمے کے حوالے کردی ہیں تاکہ یہ جانچ ہوسکے کہ انہوں نے موٹر وہیکل ایکٹ یا کسی اور متعلقہ قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔ ‘‘ پولیس کمشنر نے بتایا کہ جانوروں کی غیرقانونی نقل و حرکت کے تعلق سے کسی نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔ ہیرین چندر ناتھ کے مطابق ’’ کسی نے مارپیٹ کی شکایت بھی درج نہیں کرائی ہے۔‘‘ جو تین گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں ان میں سے ایک ٹرک میں اَپر آسام کے تین سکھیا علاقے سے جانوروں لے جائے جارہے تھے جبکہ دیگر 2؍ ٹیمپو تھے جن میں چند گائیں تھیں جو سو نا پور سے جورا باٹ کی طرف جارہی تھیں ۔ ایک افسر نے بتایا کہ ’’ جانوروں کو لے جانے کیلئے ٹرانسپورٹروں کے پاس ضروری کاغذات موجود تھے مگر ہم نے گاڑیوں کی پر مٹ میں کچھ بے ضابطگیاں دیکھی ہیں جن کی بنیاد پر انہیں ٹرانسپورٹ محکمے کے حوالے کردیا گیا ہے۔
جھارکھنڈ میں علیم الدین کے قتل کے 2؍ کلیدی ملزمین کی خودسپردگی : جھارکھنڈ کے شہر رانچی میں بھیڑ کے ذڑیعہ پیٹ پیٹ کر قتل کئے گئے علیم الدین انصاری کے 2؍ کلیدی ملزمین نے عدالت میں خودسپردگی کردی۔ دیپک مشرا اور چھوٹو ورما نامی دونوں ملزمین مقامی گؤرکشا سمیتی کے اہم رکن ہیں۔ ان دونوں کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد 10؍ ہوگئی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کشور کوشل نے بتایا کہ ’’ دونوں کلیدی ملزمین نے صبح کے وقت سٹی کورٹ میں خودسپردگی کردی۔ ہم نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ حاصل کرلیا تھا اور اگر وہ خود کو قانون کے حوالے نہ کرتے تو ہم ان کی املاک قرق کرنے کا سلسلہ شروع کردیتے ۔‘‘ گرفتار شدہ 10؍ ملزمین میں 5؍ نامزد ملزمین اور 5؍ غیر نامزد ملزمین شامل ہیں۔ اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔